حسبِ فرمائش آج کی تحریر میں ہم اپنے بلاگ کے قاری کو اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت دینے کا طریقہ جانیں گے۔ فونٹ سوئچر والی تھیم میں عموما سائڈ بار پر اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔
ہم اس کام کا بنیادی اور آسان سا طریقہ سمجھیں گے۔ بعد میں آپ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لیے آپ کو ورڈپریس تھیم کے بنیادی ڈھانچے سے تھوڑی بہت آگاہی ضرور ہونی چاہیے۔
پہلا کام:
اسٹائل سوئچ …
یہاں پیش کیے جائیں گے ماہرین کی جانب سے ورڈ پریس کے حوالے سے اسباق جن سے آپ ورڈ پریس کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
پلگ۔انز کسی بھی پروگرام کے کام کرنے کی استعداد کو چار چاند لگادیتی ہیں۔ یہاں ورڈ پریس کی پلگ۔انز کا جائزہ اور ان کے استعمال کا طریقہ بیان کیا جائے گا۔
اگر آپ اپنے بلاگ کے لیے ایسے سانچے کی تلاش میں ہیں جو اردو کے حساب سے ڈھالا گیا ہو تو تلاش ختم کریں اور یہاں دیکھیں! نت نئے دلکش سانچے۔
اور لیجیے، ورڈپریس کا تازہ ترین ورژن8 بھی سامنے آگیا۔ ورژن6 سے ورڈپریس میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں۔ انٹرفیس چینج ہوا، ڈھال اور ساخت میں تبدیلیاں آئیں اور ورڈپریس ایک نئی صورت میں مزید کئی اضافی سہولتوں کے ساتھ سامنے آیا۔
حالیہ ورڈپریس ورژن8 کے ڈیش بورڈ کی تھیم میں تو کوئی خاص تبدیلیاں وقوع پذیر نہیں ہوئی ہیں لیکن نئے آپشنز دیکھنے والے ہیں۔ جیسے ورڈپریس7 میں میرے پاس کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ڈیش بورڈ کا منظر یہ تھا:
اب اسکرین آپشن میں کچھ اضافے سامنے آئے ہیں …
کچھ دن پہلے ایک بلاگ نئے سرور پر منتقل کرنے کے بعد جب بھی آپشن کے صفحہ پر جنرل سیٹنگز(General Settings) میں کوئی تبدیلی کر کے محفوظ کرنے کی کوشش کرتا تو اگلے صفحے پر Forbidden Page کا ایرر آجاتا اور سیٹنگز بھی محفوظ نہ ہو پاتیں. تلاش بسیار کے بعد اس کا ایک حل معلوم ہوا جو آزمانے پر یہ ایرر آنا بند ہو گیا. اگر آپ کےپاس بھی یہی مسئلہ آرہا ہے تو اپنی .htaccess فائل کھولیں اور اسمیں مندرجہ زیل لائنوں کا اضافہ کریں:
1
2
SecFilterEngine Off
SecFilterScanPOST Off
امید ہے …
اردو میں بلاگ پر تحریر لکھتے ہوئے اکثر کی بورڈ کی مناسب سیٹنگز نہ ہونے کیوجہ سے واوین اُلٹے لکھے جاتے ہیں۔ اگر لکھتے ہوئے آپ تاہوما جیسا فونٹ استعمال کر رہے ہوں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ واوین صحیح ڈلے ہیں۔ اس کے علاوہ واوین کا استعمال کمپیوٹر کی تقریباً تمام لینگویجز میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے، اور اگر آپ کسی لینگویج کا کوڈ اپنے بلاگ پر غلط واوین سمیت رکھیں تو محرم و مجرم کے فرق سے صارف کا کوڈ چلنے سے انکار کر دیگا۔ …
گئے سال کی بات ہے کہ میں نے اپنا اولین بلاگ “اردو ٹیکنالوجی بلاگ” کو اردو ماسٹر کے اجراء پر خیرباد کہہ دیا تھا۔ تاہم اب بھی کافی سارے صارف اس سائٹ پر آتے تھے۔ میں نے مذکورہ بلاگ کی تمام تحریریں اور تبصرے اردو ماسٹر پر درآمد کر لیے ہیں۔ جن لوگوں نے میری پرانے بلاگ کے لنکس اپنی سائٹس اور تحریروں پر لگائے تھے، ان سے معذرت۔ میری پرانی تحریریں آپ تلاش کے خانے یا متعلقہ زمرے سے آسانی سے ڈھونڈ سکیں گے۔ تمام نئی پرانی تحریریں ایک …
ہمیں وقتا فوقتا مختلف تحاریر پر آراء کے ذریعے ورڈپریس پر آپکو درپیش مسائل کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وقتی طور پر ہم بھی آراء ہی کے ذریعے اسکا حل بتا دیتے ہیں، لیکن طویل المدتی پالیسی میں یہ کچھ مددگار چیز نہیں۔ چونکہ آراء تحریروں کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتی ہیں، اسلئے عین ممکن ہے کہ کل کوئی اور قاری عین وہی یا ملتا جلتا سوال کسی اور تحریر کے آراء میں پوچھتا رہے۔ دوسرے سرچ انجز بھی آراء کی بجائے تحاریر کو زیادہ لفٹ کراتے ہیں۔ اس …
سافٹ وئیرز کے ایسٹر ایگز سے تو آپ واقف ہی ہونگے. پہلے یہ ڈیسک ٹاپ اطلاقیوں تک محدود تھے لیکن اب یہ ویب اطلاقیوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں. آپ کا پسندیدہ بلاگنگ اطلاقیہ(Application) ورڈپریس بھی اس سے مبرا نہیں. ورڈپریس کے 2.6 اور بعد کے نسخوں میں یہ ایک ایسٹر ایگ موجود ہے، جس کا نظارہ آپ کچھ یوں کر سکتے ہیں:
1. پہلے سے شائع کی گئی یا محفوظ کی گئی تحریر کی ترمیم کریں.
2. تحریر کے صفحہ پر نیچے دہرائی(Revision) والے حصے میں آئیں، اور سب سے …
کیا آپ گوگل اینالیٹکس کے بارے میں جانتے ہیں؟ اگر نہیں جانتے تو کوئی بات نہیں، آج کے مختصر سے مضمون میں جان جائیں گے۔
گوگل اینالیٹکس، گوگل کی سروس ہے۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو سائن۔اپ کرنا پڑے گا جو کہ بالکل مفت ہے۔ اگر آپ کے پاس گوگل کا اکاونٹ ہے تو گوگل اینالیٹکس پر اسی کی معلومات فراہم کرکے پہلے سائن۔ان ہوجائیں۔۔۔ اس کے بعد سامنے آنے والے صفحہ پر صرف ایک کلک کے ذریعہ آپ اس سروس کے لیے سائن۔اپ ہوجائیں گے۔
ایگریمنٹ وغیرہ …
آج ہم بلاگ پر لکھی جانے والی اردو تحریر کا یو آر ایل بہتر بنانے کا طریقہ جانیں گے۔ جب ہم بلاگ پر کسی تحریر کا عنوان اردو میں لکھتے ہیں تو اس کے نیچے ہی اس تحریر کا لنک ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثال دیکھیں:
یہ عجیب و غریب زبان لکھی ہوئی ہے جس کا کوئی مطلب سمجھ نہیں آتا۔ یہ تحریر پوسٹ کرنے کے بعد جب آپ اس تحریر کو بلاگ پر دیکھیں گے تو براؤزر میں ویب ایڈریس یوں نظر آرہا ہوگا۔
لیکن جب ہم یہ لنک کسی ایڈیٹر میں …